Another Letter to Dad

To read in English, please scroll down!

آج پھر چھ جون ہے، تمہیں گزرے پورے بیس سال ہوگئے ہیں آج اگر تم ہوتے تو تمہاری عمر 78 سال ہونی تھی۔

آخری خط تمہیں تین سال پہلے لکھا تھا، پچھلے خطوط کا بھی جواب نہیں دیا تم نے ، کیوں؟ حالانکہ تمہیں تو خط لکھنے کا بہت شوق تھا ۔ کئی مرتبہ دکان پر جب تم پرانےٹائروں کی گڈیاں کاٹ رہے ہوتے تھے تو تم مجھے رشوت دے کر اپنے بہن بھائیوں اور دوسرے دکانداروں کو خط لکھواتے۔ لمبے لمبے خط ۔ میرے ہاتھ دکھنے لگتے مگر تمہاری باتیں ختم نہ ہوتیں۔ اب جب میری باری آئی تو جواب ہی نہیں دے رہے، یہ کیسا ظلم اپنے ہی بیٹے پر؟

یہ خط میں تمہیں کینیڈا کے چھوٹے سے قصبے Dawson City  سے لکھ رہا ہوں ، صرف چند سو کی آبادی ہے یہاں ، Yukon River کے ساتھ ۔ بالکل ایسے جیسے لیہ میں نہر کے سامنے ہمارا گھر تھا وہ  نہرجس میں نے تیر نا سیکھا ۔

آج پاکستان میں عید ہے اور میں Yukon River کے سامنےتنہا بیٹھا تمہیں یہ خط تحریر کر رہا ہوں ابھی چند روز پہلے ہہاں پہنچا ہوں بہت سفر باقی ہے میری نظر بلاوجہ اِدھرادھر ویرانوں میں تمہیں اب تک ڈھونڈتی ہیں تمہاری آواز سننے کو دل کرتا ہے مگر تم نہ جانے کہاں کھو گئے ہو؟ تمہارے جانے کے بعد میں اکثر یہ خواب دیکھتا تھا کہ تم پسینے میں شرابور گھر واپس لوٹ آئے ہو اور کہتے ہو کہ تم لوگوں نے مجھے مردہ سمجھ کر دفنا دیا جبکہ میں تو تھوڑی دیرکیلئے سو گیا تھا ۔
کیا تم ابھی تک یہاں موجود ہو؟ تو وہ کون تھا جسے ہم قبرستان میں مٹی تلے دبا کر چلے آئے تھے؟

اگر تم واقعی چلے گئے ہو تو بتا دو تا کہ تمہاری تلاش ختم کروں ۔  بتادو وہاں کی دنیا کیسی ہے؟ ہمیں تو لوگ اس دنیا میں جنتیں بیچ رہے ہیں ،فیس بک پر مولانا طارق جمیل کا بیان کسی نے شیئر کیا ، کہتے ہیں کہ حوریں  ایک سو تیس فٹ لمبی ہیں! کیا واقعی ایسا ہے؟ کیا تمہیں بھی حوریں ملیں ؟ تو کیا امی کو تم نے چھوڑ دیا ؟ تم سامنے ہوتے تو یہ سوال پوچھنے کی ہرگزہمت نہ کرتا کیونکہ تم ہمیشہ ماں کو کہتے کہ بچوں سے فری مت ہونا !

بہت باتیں کرنی ہے تم سے۔ ۔ ۔
سنا ہے لیہ میں تونسہ پل بننے جارہا ہے دریائے سندھ پر – برسوں تک تم نے اخباروں میں خبریں لگاوائیں اور دکان پر تونسہ پل کے لیے بینر لگوائے ، کہتے تھے کہ یہ پل ہمارے کاروبار اور سفر میں بہت آسانی پیدا کرے گا۔ چلو بالٓاخر تمہارے مرنے کے بیس سال بعد تمہاری خواہش پوری ہونے کو ہے۔۔۔

مگر تمہیں یہ بتاتے ہوئے تکلیف ہوتی ہے کہ تمہاری 1965 سے چلی آئی کوئٹہ ٹائرز کی دکان ختم ہو چکی ہے، کرایہ دار دکان کے مالکوں نے سامان اٹھا اٹھا کر پھینکا اور خالی کروا لی ، وہ دکان جہاں تم نے مجھے زندگی کے سارے سبق سکھائے اب نہیں رہی، اب سنا ہے تمہارا بڑا بیٹا اپنی ورکشاپ نہر والی دکان سے چلاتا ہے ۔
اور ہاں تمہاری سب سے لاڈلی بہن گل بھی دنیا چھوڑ کے چلی گئی ہےوہ جو تمہارے لیےکوئٹہ چھوڑ کر لیہ بسنے آئی تھی تم دونوں نے اکٹھے جڑے پلا ٹ لئے اور گھر بنائے ، وہی بہن جسے ملنے تم سکوٹر پر لیہ سے کوئٹہ گئے تھے تھے، وہ سفر جس کے قصّے سن کر مجھے پہلی دفعہ سفر کرنے کا شوق پیدا ہوا ، ویسے تم نے مجھےمیرے سائیکل کے سفر کرنے پر کبھی نہیں مارا یہ کام صرف میرے بڑے بھائی کا تھا ۔
وہ الیکشن میں تمہاری دھواں دار تقریریں ، میں نے پہلی مرتبہ غالب کا شعر تمہارے منہ سے سنا ۔
رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائل
جب آنکھ ہی سے نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے

تمہاری آواز لاؤڈ سپیکر سے بھی اونچی ہوا کرتی تھی کتنی شرم آتی تھی تب مجھے۔مگر آج سوچتا ہوں کہ تم کتنے دلیر تھے ،اور میں کتنا ڈرپوک،لوگوں کے سامنے بات کرنے میں۔

تمہارے دوست اور دوسرے دکاندار تمہارا مذاق اڑاتے کہ تم اپنے نام کے ساتھ پاکستانی لگاتے ہو کیا ہم پاکستانی نہیں ہیں تمہارا جواب ہوتا تو لگاوٗ نا؟ فخر کرو اس ملک پر ۔

اس ملک کے حالت دن بدن خراب ہوتے چلے جاتے ہے تمہارےمن پسند جنرل ضیاءالحق کو آج سبھی لوگ کوستے ہیں جبکہ تم نے دکان اور گھر میں اس کی تصاویر سجائی ہوئیں تھی ، جب میرا چھوٹا بھائی ذیشان پیدا ہوا تو تم نے اس کا نام شیخ ذیشان ضیاءالحق افغان علی رکھ دیا اور وہ نواز شریف جس کے جلسے پر تم مجھے ایک دفعہ اسٹیڈیم لے گئے تھے اور واپسی پر مجھے پہلی دفعہ سکوٹر چلانے دیا تھا اس کو دھکے مار کر نکال دیا گیا ہے پھر عمران خان آگیا سب کو بہت امیدیں تھیں اس سے ، مگر ابھی تک اس نے صرف مایوس کیا ہے۔

اور کیا لکھوں؟ تمہارا آبائی شہر کوئٹہ ابھی تک آگ میں جل رہا ہے ۔ اپنے سفر کی داستان تو ملنے پر ہی سناؤں گا تمہیں مگر اس شرط پہ کہ تم مجھے تھپڑ نہیں مارو گے۔ تمہارے مزدوروں والے ہاتھ کے تھپڑ ابھی تک نہیں بھولا ۔مگر پھر انہی پتھرکے ہاتھوں پر چھالے پڑ گئے تھے دکان پر سخت کام کر کر کے ۔ تمہارے ہفتے کی کمائی میری کالج کی فیس پر چلی جاتی ۔ آج سوچتا ہوں کہ اگر آخر میں میں نے سائیکل ہی چلانی تھی تو پھر تمہاری محنت کو برباد کیوں کیا؟ میری پہلی سائیکل جسے تم نے ساتویں جماعت میں مجھے لے کر دی تھی جس پر میں نے ایکسیڈینٹ کیا اس کے بعد نہیں لے کر دی سائیکل تم نے۔

آج عید کا روز ہے ہے تم کبھی کبھار مسجد میں یہ نعت پڑھتے ۔۔۔
ہر روز روز عید ہو
ہر رات شب برات ہو

ماں تمہیں مذاق سے کہتی پھر روزانہ عیدی بھی دینی پڑے گی ، کئی عیدیاں ادھار ہیں تم پر، اور لوں گا صرف پا نچ پانچ والے کن کنے نوٹ! چا ہے تمہیں جہاں سے لانے پڑیں۔

بچپن کے دن یاد آتے ہیں جب میں رات کو ٹیبل لیمپ جلا کے پڑھ رہا ہوتا تھا تم خاموشی سے میرے پاس ٓاتے اور مٹھی بھر خشک میوے پکڑا کے دبے پاوٗں چلے جاتے ۔ صبح قرآن پڑھوانے کے لیے مجھے اٹھا کر مسجد لے جاتے ، سارا قرآن میں نے بسکٹ ٹافیوں کی رشوت لے کر پڑھا۔ میں کہتا تھا کہ صبح خالی پیٹ میرا گلا خشک ہوتا ہے، ایک دفعہ مولوی صاحب نے مجھے شال کے نیچے چھپ کر بسکٹ کھاتے پکڑ لیا اور پٹائی کی کہ تم کھاتے ہو قرآن پڑھتے ہوئے؟

جون کا مہینہ ہے گرمی آگئی ہے ، آموں کا موسم ہے تمہارا پسندیدہ پھل ،طرح طرح کے آموں کی پہچان تھی تمہیں ، بالٹی میں پانی اور برف ڈال کر آم ٹھنڈے کرتے ، ہم سب بہن بھائی دائرہ بنا کر تمہارے گرد بیٹھ جاتے اور تم آم اپنے ہاتھوں سے نرم کرکر کے ہمیں دیتے جاتے ۔بالکل ایسے ہی جیسے ایک چڑیا اپنے گھونسلے میں بچوں کو دانہ دیتی ہے۔
اب نہ تم ہو اور نہ وہ برف میں لگے آم ۔

لیہ چکر لگائے تقریبا چار سال ہونے کو ہیں اب اس شہرکو جانے سے مجھے کوفت ہوتی ہے۔ ویسے بھی وہاں تمہاری قبروں کے سوا رکھا کیاہے باقی بہن بھائی اپنی زندگی میں مصروف ہیں اور میں اپنی دھن میں مست ۔تم کہتے تھے کبھی اپنی اوقات نہیں بھولنا تو ہر جگہ میں لیہ کا ذکر ضرور کرتا ہوں۔

جب نویں جماعت میں مجھے عینک لگی تھی تو تم کہتے تھے صبح واک کیا کرو سبزہ دیکھو نظر ٹھیک ہوجائے گی اب یہاں Yukon اور British Columbia میں اتنا سبزہ دیکھا ہے تو نظر ٹھیک ہو جانی چاہیے تھی؟ مگر ابھی تک نہیں ہوئی تو کوئی اور تدبیر بتاؤ ۔

باقی ماں کا سناؤ کیسی ہے وہ ناراض ہوگی کہ صرف باپ کو خط لکھتا ہے اور مجھے نہیں مگر اسے سمجھانا کہ مجھ میں ہمت نہیں اسے لکھنے کی ، قلم سے لکھے گئے لفظ آنسوؤں کے دریا میں بہہ جائیں گے اور ساتھ میں مجھے بھی بہا کر لے جائیں گے بس اسے میرا سلام دینا۔

کہنا ابھی تک بھٹک رہا ہے کینیڈا میں اور پھر ٓاگے الاسکا ہے ۔ کیا سوچا تھا اس نے میرے لیے اور کیا ہو گیا ،یہ سفر بیابان وادیوں کا نہ جانے کیسے شروع ہوا اور کیسے ختم ہوگا۔ اب تم دونوں نہیں تو پھر سمجھانے والا کون؟

بہت کچھ کہنے اور سننے کوہے مگر خط میں یہ ممکن نہیں۔ یہ خط آن لائن اس لئے پوسٹ کر رہا ہوں کہ شاید کسی جاننے والے کے توسط سے تمہیں مل جائےکیسا اتفاق ہے کہ میں آج Dempster Highway کے دس دنوں کےشاید سب سے مشکل سفر پر نکل رہا ہوں تو موقع کی مناسبت سے میں نے ایک نظم لکھی ہے تمہارے لیے۔۔۔۔

ایک نہ ختم ہونے والا راستہ ،
وہ جہاں رات کو بھی سورج نہیں ڈوبتا
میں کہیں تھک چورکے کہیں ہارا ہوں ،
جہاں کوئی بھی نہ ہو دور تلک
صرف ایک لمبا تھکا سایہ
میرے ساتھ رینگتا ہوا ،
اور پھرافق پر ایک عکس ابھرے
ارے یہ تو تم ہو، اپنے نیلے سکوٹر پر
”بیٹھو بیٹا، میں تمہیں لے چلتا ہوں ٓاگے ۔“
پھر میں سب کچھ چھوڑ کے بیٹھ جاوٗں تمہارے پیچھے،
اور ہم سورج میں غائب ہو جائیں
پیچھے صرف دھول کا بادل رہ جائے
اور پھر یہ سفر یونہی چلتا رہے
کوئی منزل نہ ہو
بس چلتا رہے یہ سفر
ہمیشہ کے لئے،
کیسا ہوگا یہ سفر؟
کاش ایسا ہو!
 کاش ایسا ہو!

—-
تمہارا،
کامران 

ڈاسن سٹی کینیڈا (چھ جون ۲۰۱۹)

 

It’s the 6th of June again; exactly 20 years since the day you passed away. You would have been 78 years old today if you were here.

The last time I wrote to you was three years ago. You didn’t even reply to my earlier letters. Why? You used to love writing letters. So many times while busy regrooving old tires at the shop, you would bribe me to write letters to your siblings and other shopkeepers. Long letters. My hands would hurt but you wouldn’t stop talking. Now that it’s my turn you are not replying. What an injustice to your own son!

I am writing this letter from Dawson City—a small town in Canada. A few hundred people live here right next to the Yukon River. Just like our previous home next to a canal in Layyah – the canal where I learnt how to swim.

It is Eid in Pakistan today. And I am here, sitting in front of the Yukon River, writing this letter to you. I arrived here just a few days ago. I still have a long way to go. My eyes keep searching for you in empty spaces, and I long to hear your voice. I don’t know where you have disappeared. After you left, I’d often dream that you would return home dripping in sweat, and say, “I had fallen asleep but people thought I was dead and buried me?”

If you are you still around then who did we bury in the graveyard? At least let me know if you have really left, so I can stop looking for you.

People sell us heaven in this world. Someone shared a sermon by Maulana Tariq Jameel on Facebook; he said that the Houris are 130 feet tall! Is it really true? Did you also get some Houris? Have you left mom then? I couldn’t have dared to ask you this in person. You always used to tell mom to not let the children get too friendly.

There are so many things I have to talk to you about. I’ve heard they are going to build the Taunsa Bridge on the river Sindh in Layyah. For years, you campaigned for the Taunsa Bridge —getting headlines printed in the newspapers and putting up banners on shops. “This bridge will help in our business and commute,” you’d say. Well then, twenty years after your death, your wish is finally about to come true.

But it pains me to tell you that your shop since 1965—Quetta Tires no longer exists. The landlord threw out everything from the shop and forcefully evicted it. The same shop where you taught me all the lessons of life is no more. I’ve heard that your elder son now runs his workshop from the canalside shop.

And, your dearest sister Gul has also left the world—the one who moved from Quetta to Layyah because of you. You both bought adjacent plots of lands, build houses so you could live near each other. The same sister whom you went to see by riding a scooter from Layyah to Quetta—the journey the tales of which made me dream of travelling the very first time. But you never beat me for my bicycle tours. It was my elder brother’s job.

I remember your enthusiastic speeches during the local and general elections. It was you from whom I heard Ghalib’s poetry for the first time:

ragon mein daurte phirne ke ham naheen qaayal
jab aankh hee se na tapka to phir lahoo kya hai?

(I do not believe in the blood that flows only in the veins,
if it does not drop(as tears) from the eyes, then how can one call it blood?)

Your voice was louder than the loudspeaker. I used to feel so embarrassed. Now that I think of it, you were so courageous to talk in front of people, and I’m such a coward.

Your friends and other shopkeepers would poke you for attaching Pakistani to your name. “Aren’t we all Pakistani?” they would say. “Go ahead and add it with your name as well! Be proud of this country,” you’d say.

The state of this country is getting worse by the day. Everyone curses your dear General Zia ul Haq today, whereas you had his photos up in the shop and at home. When my younger brother Zeeshan was born, you named him “ Sheikh Zeeshan Zia ul Haq Afghan Ali”. And that Nawaz Shareef—whose rally you took me along with you to the stadium, and on the way back you let me drive the scooter the first time; he has been kicked out too. Then Imran Khan became the Prime Minister—everyone had high hopes from him, but so far he has only disappointed us.

What else should I tell you?

Your home town Quetta is still burning.

I’ll tell you about my journey when we meet, but on the condition that you will not slap me. I have still not forgotten the slaps from your strong hands. The hands of a labourer. It is hard to think that the same rock-hard hands would develop blisters due to hard work at the shop. Sometimes I wonder if I were to spend life doing cycling then why did I waste your hard work? You bought me my first cycle in the 7th grade—the one I had an accident on. After that, you never bought me a cycle again.

It’s Eid today. You used to recite this naat in the mosque sometimes; “Every day be Eid, every night, Shab-Baraat”

“You’d have to give eidi every day then,” mother would joke. A lot of eidis are due on you. And I will only take new crisp 5-Rupees notes, no matter where you have to get them!

Late at night, when I would be studying under the table lamp, you’d tiptoe your way to me, give me a fistful of dried fruit, and leave. You had to literally carry me to the mosque to read the Quran. I always used to complain that my throat was dry in the morning. I have to admit that I read the whole Quran by taking bribes of biscuits and sweets. Once, Molvi sahib caught me eating a biscuit underneath my shawl. He beat me up for that saying, “You are eating while reading the Quran?”

It’s June. It is summer time, the season for mangoes—your favourite fruit. You were able to differentiate among so many different kinds of mangoes. You’d chill them in a bucket of water and ice, soften them with your hands and hand them over to us siblings, sitting in a circle around you. You would feed us the way a bird feeds its children in the nest.

Now there is nothing, neither you nor those ice-cold mangoes.

It’s been 4 years since I last visited Layyah. Going to that city makes me anxious now. Apart from your graves, there is nothing there. My brothers and sisters are all busy in their own lives, and I live in my own world. You used to tell me, “never forget your roots!” I make sure that I mention Layyah everywhere.

When I had to start wearing eyeglasses in the 9th grade, you’d tell me to go for morning walks and look at greenery to improve the eyesight. Here in Yukon, British Columbia I have seen so much greenery, the eyesight should have improved, but it hasn’t. Do you have another remedy?

How’s mom? She must be very upset, “he only writes to his dad and not to me!” Tell her that I don’t have the strength to write to her. Streams of tears will drown my words and sweep me along. Just give her my greetings.

Tell her, he’s still wandering in Canada and next is Alaska. She had seen different dreams for me, but they turned out to be different. I don’t know how this journey started and how it will end. Both of you are not here, who else could I ask for advice?

There is a lot to say and hear, but it’s not possible in a letter. I am posting this letter online in the hope that maybe you’d get it through someone. What a coincidence that today I am leaving for perhaps the most difficult part of my journey— ten days of cycling on the Dempster Highway. So on this occasion, I have written a small poem for you:

A never ending road,
in the land of the midnight sun,
an exhausted, worn out me,
with no one in sight,
only a long tired shadow,
crawling alongside me,
and then, a vision appears on the horizon,
it is you, on your blue scooter,
“Come, son, I’ll take you there!”
I leave everything and sit behind you,
and we will disappear into the sun,
leaving a cloud of dust behind,
on a journey with no end,
or a destination,
a journey that goes on forever,
you and me telling stories,
from two different worlds.
What a journey that would be!
How I wish!
How I wish!

Yours,
Kamran
Dawson City, Canada (June 6, 2019)

26 thoughts on “Another Letter to Dad”

  1. Very emotional and inspirational. Wonder how you father died at the age of 58. He looked fit though. And you, you are a courageous man with warrior like nature. I can feel how you feel in your long continuous and hard journey though it is very exciting and full of learning and exposures. May God give you strength and protect you. A’ameen.

    Reply
  2. Dear Kamran Bhai..

    Thanks to the world of web that I have find you and I am following you since last four years…

    You have given so much to me that if I start writing the list will be too long…but the best among them is that I have got my cycling passion back..which I have lost to the notion that log Kia kahengay..but since 3 years I don’t care and peddle up myself …

    Your letter to your father(both letters) has never left me to finish it with out tears and all the crying….

    I wish I can write a letter like that of you to my father Daji who has left us 39 years ago when I was just eight years old…there has no been a single eid that I have not missed him and he was having the dream that I may scroll up in education and have all the higher degrees and now when I have achieved some part of his bigger dreams I miss him so much….
    I wish I can write a letter like you to him and put all my heart out and as like he used to do to console me by reciting the mystical poetry of Rahman Baba from his Dewan Rahman in his sweet melodious voice….I wish I can put my head in his lap when he used to pray loudly…

    Brother I wish I can have my cycle beside your cycle and move all the world with you before my legs are worn out by age …so that I can have some stories to tell it to my grand children and have that smile of pride on my face when they all will listen with out being bored…

    Wish you all the best and have all the fun and keep inspiring me and many like me which I am sure will be in millions too…

    May you parents and my father have peace in heaven and may their prayers be always heard…which I am sure they are still praying..

    Love and regards..

    Tariq Khan

    Mardan KPK
    PAKISTAN.

    Reply
  3. Why i had to read this ? why you made me cry?why you made we think of my parents who are no more?
    who says memories die ?They keep you pulling along in life ,still one lives his own life but there is always an aroma of parents advises ,some harshness there celebrating our achievements.
    your letter said it all, one is never alone , its not must to have someones physical presence with you.

    best wishes for you Kamran
    keep going,they will smile on your achievements

    Reply
  4. May Allah bless your parent with Jannah and give you strength to fulfil your dreams. Have a happy Journey 🙂 and Eid Mubarak 🙂

    Reply
  5. Very touching & absorbing discourse… God bless your parents with a place in Jannat ul Firdos. Had he been 78 years of age today… Would have been very pleased & proud of you & your endeavors.

    Reply
  6. words make my dad things.. some resemblance in my life too.. miss u dad… but i didnt let ur image on our business down.. u r my all.. still running life good of ur smile.. thankq dad

    Reply
  7. Simple, beautiful and touching. Sometimes we all take for granted how special and important our relationships with our Dad’s are. Hoping you a safe, reflective and wonderful journey.

    Reply
  8. bohat parhny me maza aya or utna he dukh wala letter tha.
    mujhe bhe poory dunya dekhny ka bohat shook hai.
    zindagy rahe to me bhee apke tarah bohat ghoomonga . or apne ALLAH PAK K SAARAH KORONGA TAREEF KARONGA.
    NAZAR MUHAMMAD SINDHI.

    Reply
  9. Assalam Alikum Kamran,
    I am Khalid Shafiq from Islamabad Pakistan, elder brother of your Qadir Shafiq.
    Fortunately, I got chance to met with you personally, as well as all your family members including your father in Layyah. Today I came to know that you writes very good and very emotionally. Believe me, all the time I was reading your article, was weeping all the way, as all facts are coming to me like a feature film. I have been asking about you from
    Qadir and your sis time to time. May Allah almighty bless your deceased parents, and rest to the departed soul. Ameen. Now tell when are you coming back to Pakistan. Reply sharp. I will be waiting you to welcome when you reach Pakistan victoriously.

    Best Regards.

    Khalid Shafiq , Islamabad. Pakistan.

    Reply
  10. Aoa Kamran, your letter made me cry. I don’t have words to express my feelings towards you. I never, never write things on social media, internet etc but I couldn’t stop myself to say Salaam to you and pray for your beloved father.

    Stay safe,

    Ahmad Javed
    Toronto

    Reply
  11. I am Sajjad Aziz Khan from Lahore. Read your letter to your father and got tears in my eyes. I want to share it on my wall. I want to get permission but don’t have contact with you. I am sharing it with an apology.

    Reply
  12. Best Wishes for your journey from Layyah to Alaska .Layyah bridge near to completion i hope u visit bridge after completion.
    Ap ki video jis mein layyah ka signbord install ker arahy hain bht acha laga apny home town si mohbat ka.

    Reply
  13. Dear Kamran, you are a true inspiration for so many who have known you, read you or met you. May you have strength and courage to keep going on the path you have chosen. I hope to meet you again someday.

    Reply

Leave a comment